شراکت دار: برٹش کونسل، ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) عوامی اور نجی اعلیٰ تعلیمی ادارے (پاکستان اور برطانیہ) لیڈر شپ فاو¿نڈیشن (برطانیہ)
جدید اختراعی، متحرک اور تخلیقی معیشتوں کے لیے خیالات، تصورات اور معلومات کے زرخیز تبادلہ بہت اہم ہوتا ہے۔ ہمارے پاس برطانیہ اور پاکستان کے درمیان تعلیمی اور تحقیقی روابط کے لیے مستحکم پروگرام موجود ہے جو دونوں ملکوں کے لیے نہایت مفید ہے۔
دنیا کے ساٹھ سے زائد ملکوں کے لگ بھگ ایک ہزار پروفیسر، وائس چانسلر اور حکومتوں کے وزراء دسمبر میں ہماری عالمی کانفرنس گوئنگ گلوبل میں شریک ہوئے۔ واضح رہے کہ مذکورہ کانفرنس برطانیہ میں تعلیم کی سب سے بڑی کانفرنس تھی جو درج ذیل امور پر بحث کرنے کے لیے ہوئی تھی:
تحقیق، ٹیلنٹ کی آب یاری، روزگاریت اور آموزش (لرننگ) کا مستقبل۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ایس سہیل ایچ نقوی نے اس کانفرنس میں ہمارے مہمان کی حیثیت سے شرکت کی۔
انھوں نے کہا”اس کانفرنس گوئنگ گلوبل میں میں بہت سے ایسے اہم افراد سے ملا جو برطانیہ میں ہائر ایجوکیشن میں کام کررہے ہیں اور ان سبھی نے ہمارے پروگراموں کی مدد اور حمایت کرنے کی خواہش ظاہر کی۔“
ڈاکٹر عزیز نجم، وائس چانسلر قراقرم انٹر نیشنل یونیورسٹی نے برطانیہ میں لیڈرشپ فاو¿نڈیشن کورس میں عوامی شعبے کے بارہ وائس چانسلر کو جوائن کیا۔ ڈاکٹر عزیز نجم اپنی یونیورسٹی کے لیے تین واضح ترجیحات کے ساتھ واپس آئے:
٭ان کا انحصار عوامی فنڈنگ پر کم کرنا۔
٭اپنی حکمت عملی کے پلان کو اپ ڈیٹ کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا کہ ان کا یہ پلان مقابلے کی صف میں کھڑا رہ سکے۔
٭اور جو کچھ وہ سب کررہے ہیں اس کے لیے معیار کا ایک ضابطہ ایک کوڈ اختیار کرنا۔
اسے ایچ ای سی اور برطانیہ کی لیڈرشپ فاو¿نڈیشن برائے اعلیٰ تعلیم نے آرگنائز کیا تھا، اس سے وائس چانسلر کو بہت فائدہ ہوا اور ان کے سامنے ایک واضح تصویر آگئی کہ برطانوی یونیورسٹیاں کیسے کام کرتی ہیں۔ اس کانفرنس میں ان طریقوں پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی جو ان کے اہم چیلنجوں سے نمٹنے میں مددگار ہوسکتے ہیں اور ان کی وجہ سے ان کی اپنی یونیورسٹیوں کے انتظامات بھی بہتر ہوں گے اور وہ مزید ڈولپ بھی ہوسکیں گی۔