مجھے بہت خوشی ہورہی ہے کہ ہمارے موسم خزاں کے ایڈیشن کے بعد سے ہمارے پروگرام مسلسل کامیابی اور عروج کی طرف جارہے ہیں۔
آپ خبروں میں جو کچھ سنتے ہیں، اس کے علاوہ بھی پاکستان اور برطانیہ کے درمیان بین الثقافتی مکالمہ اور تبادلہ مسلسل پنپ رہا ہے اور فروغ پارہا ہے۔ اس ایڈیشن کا بنیادی موضوع یہ ہے کہ نوجوان افراد مقامی سطح پر، آپس میں اور بین الاقوامی سطح پر ایک مثبت کردار کیسے ادا کررہے ہیں۔
حال ہی میں میں اپنے پارٹنر (شریک) اور دوست ابرارالحق کے ساتھ مانچسٹر میں تھا جہاں ہم نے یوتھ پارلیمنٹ آف پاکستان کے تصور کو فروغ دیا اور پنجاب اور مانچسٹر کے درمیان کمیونٹی ایکسچینج کا اجراءکیا۔
ابرار کا کہنا ہے:”کمیونٹیز کے لیے یہ بہت اہم ہے کہ وہ اس تنوع اور رنگارنگی کو سمجھیں جس سے انتہا پسندی جیسے امور یا مسائل پر توجہ دی جاسکتی ہے۔ دی یوتھ پارلیمنٹ بین الثقافتی مکالمے اور تعلیمی اصلاحات کے لیے سہولت بہم پہنچاسکتی ہے اور تعمیری یا ترقیاتی منصوبے افراد اور کمیونٹیز کے درمیان بہتر مفاہمت پیدا کرسکتے ہیں۔“
اسی ہفتے کے دوران لاہور سے میرن کریم نے ڈیووس ورلڈ اکنامک فورم میں پاکستان کی نمائندگی کی جو ہمارے Global Changemakers programme کا حصہ تھا۔
اپنے مربوط کلاس رومز پراجیکٹ کے ایک حصے کے طور پر ہم نے نوجوان افراد کے لیے سوشل ایکشن پراجیکٹس لانچ کیے تاکہ ان کی کمیونٹیز میں فرق نمایاں ہوسکے۔
میں Social Entrepreneurship Award کے فاتحین ے بھی ملا ہوں۔ اس ایوارڈ میں پاکستان بھر کے نوجوان افراد نے enterprises آئیڈیاز کے لیے حصہ لیتے ہوئے آپس میں مقابلہ کیا تھا جس کے پس پردہ یہ خیال تھا کہ یہ enterprises کمیونٹیز کی مدد کرسکیں۔ اس میں تصور اور اختراعات و جدت کے پہلو پر خصوصی توجہ دی گئی تھی۔
میں بڑے فخر اور خوشی کے ساتھ لندن سے اپنی اس ٹیم کو واپسی پر خوش آمدید کہوں گا جس نے اس ایوارڈ کا ریجنل فائنل جیتا ہے۔
یہ پاکستان میں برٹش کونسل کے کام کا بہت ہی
پرجوش وقت ہے اور یہ نیوز لیٹر ہمارے کچھ منصوبوں کا صرف ایک معمولی سا ذائقہ ہی فراہم کرسکتا ہے۔ آپ اس ضمن میں مزید معلومات اور تمام کہانیاں ہماری ویب سائٹ www.britishcouncil.org.pk پر جاکر دیکھ سکتے ہیں۔ مجھے توقع ہے کہ آپ ان تمام مضامین اور دیگر کہانیوں سے بہت لطف اندوز ہوں گے، برائے کرم ہمیں اپنی رائے سے ضرور نوازیے گا۔