شراکت دار: برٹش کونسل، صوبائی وزارت برائے ثقافت و امور نوجوانان حکومت پنجاب، یوتھ پارلیمنٹ آف پاکستان(YPP)، مانچسٹر سٹی کونسل، پاکستان ورکرز فیڈریشن،Voluntary Services Overseas (رضاکارانہ خدمات برائے سمندر پار)IDSP، پاٹن، آواز، یوتھ کونسل، گریٹر مانچسٹر یوتھ نیٹ ورک، یوتھ پوائنٹ لیڈز۔
پاکستان میں نصف سے زائد آبادی پچیس سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ Active Citizens
معاشرے میں نوجوانوں کو متحرک کرنے اور مختلف ثقافتوں کے درمیان اعتماد اور مفاہمت کے استحکام کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ ہم معلومات اور تجربات کے تبادلے اور صلاحیتوں کی تعمیر اور مواقع کی تعمیر کرتے ہیں۔
پاکستانی لڑکی میرن کریم کی عمراٹھارہ سال ہے، یہ ان چھ نوجوان متحرک شہریوں میں شامل ہیں جنھوں نے جنوری میں سوئزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقدہ ورلڈ اکنامک فورم میں عالمی رہنماو¿ں کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ عالمی امور پر فی الفور قدم اٹھائیں۔ انھوں نے ہمارے عالمی Changemakers کی نمائندگی کی، یعنی ان نوجوان افراد کی جو کمیونٹی پراجیکٹس اور مہمات پر کام کررہے ہیں۔
وہاں میرن نے اسٹوڈنٹ ڈیموکریسی کی حوصلہ افزائی کے لیے اپنے اسکول میں ایک یوتھ پارلیمنٹ شروع کرنے کے بارے میں بات کی۔ دوسرے نوجوانوں نے دیگر موضوعات پر تقریریں کیں جن میں ایڈز اور آب و ہوا میں تبدیلی و تغیر شامل تھے۔
میرن نے کہا”میرے لیے روڈ فرام ڈیووس ابھی شروع ہوا ہے۔ ہمارے نئے منصوبوں میں سے ایک منصوبہ یہ ہے کہ پاکستان سے نوجوان وفود کو بڑی اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں لایا جائے۔“
دسمبر میں پاکستان اور برطانیہ کے نوجوان افراد یوتھ فورم ایکسچینج کے تحت لاہور میں ملے تھے جس کا مقصد یہ تھا کہ اس فورم کے ذریعے ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جائے اور کچھ سیکھا جائے۔
انھوں نے اپنی کمیونٹیز میں اپنے کام کے بارے میں بھی بتایا اور یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے دورے کے نتیجے میں حاصل ہونے والے تجربات کو مستقبل میں بہتری کے لیے کیسے استعمال کریں گے۔
برطانیہ کی ایلس کا کہنا تھا”پاکستان ایک خوب صورت ملک ہے۔ اس کے لوگ بہت مہربان، خوش مزاج اور مخلص ہیں۔ ہم برطانیہ میں لوگوں کے اس خیال کو بدلنے کی کوشش کریں گے کہ پاکستانی stereotyped ہوتے ہیں۔“
پاپ اسٹار اور سماجی ورکر ابرار الحق اس گروپ میں شامل تھے جس نے ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے جنوری میں برطانیہ کا دورہ کیا تھا۔ یہ کانفرنس مختلف کمیونٹیز کے درمیان کشیدگی سے نمٹنے کے حوالے سے منعقد کی گئی تھی۔
اس موقع پر بین الاقوامی اور برطانوی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 120سے زائد افراد نے متعدد امور کا جائزہ لیا جن میں بے روزگار، تعلیم، معاشرے میں نوجوان افراد کی شمولیت اور مستحکم کمیونٹیز کے فروغ میں ذرائع ابلاغ کا کردار شامل تھے۔
ہم نے پنجاب اور مانچسٹر، برطانیہ سے کمیونٹی لیڈرز کے لیے کمیونٹی ایکسچینج کا بھی اجراءکیا۔ ان دوروں کا مقصد یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کی ثقافت اور کمیونٹی اسٹرکچر کے بارے میںجان اور سیکھ سکیں، تاکہ بعد میں وہ اپنے اپنے گھر جاکر تبدیلی کے لیے زیادہ موثر انداز سے کام کرسکیں۔ جب تک ہمارا یہ شمارہ پریس جائے گا، اس وقت تک پاکستان کے کمیونٹی لیڈرز مانچسٹر میں ہوں گے اور یہ اس تبادلے کا پہلا مرحلہ ہے۔ اس طرح نوجوان افراد کو قومی سطح پر ایک آواز بھی دی گئی ہے جس کے لیے ایک رہنما ٹی وی سیریز
فروری میں شروع کی جاچکی ہے تاکہ YPP National Youth Assembly کا انتخاب کیا جاسکے۔
نوجوان امیدواروں کے انٹرویوز نامی گرامی جج کررہے ہیں۔ 324 افراد کا فائنل انتخاب اس طرح کیا گیا کہ ججوں، اسٹوڈیو میں موجود حاضرین و ناظرین اور گھروں پر دیکھنے والے افراد نے بھی ایس ایم ایس کے ذریعے ووٹ دیا۔
اس کے بعد یہ اسمبلی یوتھ وزیر اعظم کے لیے ووٹ دے گی۔ یہ یوتھ اسمبلی نوجوان افراد کی مدد کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرے گی تاکہ وہ اپنے ملک کے مستقبل کو ایک تعمیری ڈیزائن دے سکیں۔